اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر
بتایا کہ شام کے صدر بشارالاسد اور اُن کے روسی، ایرانی اور لبنانی اتحادیوں کے
خلاف برسر پیکار عرب اور مغربی حمایت یافتہ باغیوں کو جدید اور طاقتور ہتھیاروں کی
فراہمی بڑھا دی جائے گی، جن میں ٹینک شکن ہتھیار بھی شامل ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جن تنظیموں کو ہتھیار فراہم کیے گئے ہیں اُن
میں شدت پسند تنظیم داعش اور النصرہ فرنٹ شامل نہیں ہیں اور اِن دونوں کو
کالعدم دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جا چکا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہتھیار تین باغی اتحادی تنظیموں کو دیے جائیں
گے جس میں جیش الفتح، فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) اور جنوبی فرنٹ شامل ہیں۔
سرکاری عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اسد اور شدت پسند تنظیم دولت
اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے سنی باغیوں کو سعودی عرب کی حمایت برقرار رکھنے میں قطر
اور ترکی کا کردار بہت اہم ہے۔ روس اسد کے خلاف لڑنے والے تمام باغیوں کو دہشت گرد
کہہ رہا ہے جس میں امریکہ کے تربیت یافتہ جنگجو بھی شامل ہیں۔

0 comments:
Post a Comment