ایران نے دوسرے
ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اپنی مفادات کے حصول کے لیے قرن افریقا میں
طویل عرصے تک اپنے سینگ پھنسائے رکھے۔ سعودی_عرب کی کامیاب سفارت کاری کے باعث ایرانیوں
کو افریقی ملکوں میں مایوسی اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
سعودی عرب کی
قرن افریقا میں اپنی کامیاب حکمت عملی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کےمطابق سعودی
عرب نے افریقا کے مسلمان ملکوں کے ساتھ صرف روایتی راہ و رسم ہی نہیں بڑھائی بلکہ حقیقی
معنوں میں باہمی سیاسی، اقتصادی،سیکیورٹی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے ٹھوس اقدامات
کرکے ان ملکوں کے عوام اور قیادت دونوں کے دل جیت لیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افریقا کے
ملکوں کی نظریں اب ایران پر نہیں بلکہ سعودی عرب پر مرکوز ہیں۔

0 comments:
Post a Comment