عراق کے خودمختار شمالی
علاقے کردستان کی سکیورٹی فورسز البیش المرکہ سے متعلق وزارت نے داعش کے جنگجوؤں
پر اگست میں لڑائی کے دوران ایسے مارٹر گولے فائر کرنے کا الزام عاید کیا ہے جن میں
مسٹرڈ ایجنٹ موجود تھے۔
کردستان کے علاقائی
دارالحکومت اربیل کے جنوب مغرب میں واقع علاقے میں داعش کے جنگجوؤں نے البیش
المرکہ کے خلاف لڑائی کے دوران یہ مارٹر گولے فائر کیے تھے۔ان سے زخمی ہونے والے
پنتیس کرد جنگجوؤں کے خون کے نمونے حاصل کیے گئے تھے اور ان کے زخموں کا بھی
معائنہ کیا گیا تھا۔ان ٹیسٹوں سے پتا چلا ہے کہ کرد فوجیوں کے خلاف سلفرمسٹرڈ کا
استعمال کیا گیا تھا۔
قبل ازیں امریکی فوج کے
تحقیقات کاروں نے بھی سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی جانب سے فائر کیے گئے مارٹروں
میں کیمیائی مواد کے اجزا کی موجودگی کا سراغ لگایا تھا۔
امریکا نے اگست میں شمالی
عراق میں داعش کے جنگجوؤں کی جانب سے کرد فورسز کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے
استعمال کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ایک امریکی عہدے دار نے داعش کی جانب سے کرد
جنگجوؤں کے خلاف مسٹرڈ گیس کے استعمال سے متعلق رپورٹس کو قابل اعتبار قرار دیا
تھا۔

0 comments:
Post a Comment