یمن کے جنوبی شہر عدن
میں متعدد راکٹ حملوں میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد اور اس کے یمنی
اتحادیوں کے پندرہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی
وام نے ٹویٹر پر ان فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔یمنی حکومت کے ایک ترجمان اور
مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ عدن کے مغربی حصے میں واقع القصر ہوٹل پر متعدد راکٹ
فائر کیے گئے ہیں جس سے دھماکے ہوئے ہیں۔اسی ہوٹل میں یمن کے نائب صدر اور
وزیراعظم خالد بحاح کے علاوہ اعلیٰ سرکاری عہدے دار ٹھہرے ہوئے ہیں۔
یمنی فوج اور اس کے اتحادیوں کے جولائی میں
عدن پر دوبارہ قبضے اور وہاں سے حوثی باغیوں کی پسپائی کے بعد یہ سب سے بڑا حملہ
ہے۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح القصر ہوٹل پر راکٹ گرینیڈ
فائر کیے گئے تھے اور یہ راکٹ ہوٹل کے داخلی حصے میں گرے تھے۔
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہوٹل کے گیٹ پر
ایک میزائل فائر کیا گیا تھا اور ایک میزائل اس کے نزدیک گرا تھا جبکہ شہر کے
علاقے البریقہ میں تیسرا میزائل گرا ہے۔العربیہ پر نشر کی گئی تصاویر میں سیاہ
دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔اس حملے کے بعد القصر ہوٹل کے ارد گرد
سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم
خالد بحاح اپنی کابینہ کے سات وزراء اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں سمیت 16 ستمبر کو
سعودی عرب سے عدن واپس آئے تھے۔وہ تب سے القصر ہوٹل ہی میں مقیم ہیں اور وہیں سے
کاروبار حکومت چلا رہے ہیں۔یمنی ذرائع کے مطابق وہ راکٹ حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

0 comments:
Post a Comment