شام اور عراق میں سرگرم
دولت اسلامی"داعش" دنیا بھرسے اپنی صفوں میں صرف جنگجو بھرتی کر رہی ہے
بلکہ ماہرین صحت سمیت کئی دوسرے شعبوں سے وابستہ ماہرین کو بھی ورغلا کر تنظیم میں
شامل کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں سوڈانی وزارت خارجہ کے ترجمان علی الصادق نے بتایا کہ ان
کے ملک سے 18 ڈاکٹر "داعش" میں شامل ہوچکے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کی شمولیت
بھی مختلف شعبوں کے ماہرین کی تنظیم میں شمولیت کی مہمات کا حصہ ہے۔ ان میں
ڈاکٹروں کے علاوہ نرسیں اور فنی شعبے دیگر ماہرین شامل ہیں۔
ماہرین کو بہلا پھسلا کر اپنی صفوں میں شامل کرنے کا رحجان صرف داعش
کے ہاں ہی نہیں بلکہ یہ کام دنیا بھر کی تمام دہشت گرد تنظیمیں کسی نہ کسی شکل میں
جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاں "انسانی ہمدردی" کی بنیاد پر دوسروں کو
ورغلانا، شورش زدہ علاقوں میں خواتین اور بچوں کی طبی نگہداشت کا ڈرامہ رچا کر
ماہرین صحت کو اپنوں صفوں میں شامل کرنا داعش سمیت تمام شدت پسند گروپوں کا وطیرہ
ہے۔ انہیں اس بہانے سے تھوک کے حساب سے ہمدرد میسر بھی آ جاتے ہیں۔
0 comments:
Post a Comment