بوسنیا کی صدارتی کونسل کے مسلم رکن نے اپنے ملک میں جنگ کے زمانے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فراہم کردہ امداد کی قدر دانی کی ۔
ایک رپورٹ کے مطابق بوسنیاکی صدارتی
کونسل کے مسلم رکن "باقر عزت بگوویچ" نے جمعے کو سارائیوو میں اسلامی
جمہوریہ ایران کے صدر کے مشیر اکبر ترکان کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایران
ہمیشہ دنیا کی مسلمان اور مظلوم قوموں خاص طور پر بوسنیا کے عوام کے ساتھ
رہا ہے- بوسنیا کے رئیس العلما نے بھی اپنے ملک کی سخت جنگ کے دور کا ذکر
کیا اور کہا کہ ایران نے کسی امید اور توقع کے بغیر انسانی ہمدردی کی بنیاد
پر بوسنیاکے عوام کی بھرپور مدد کی- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے مشیر
نے بھی بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام کو تاریخی ظلم قرار دیا اور اس بات
پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی برادری نے بوسنیامیں مسلمانوں کے قتل عام
کے موقع پر اپنے فرائض پر عمل نہیں کیا- اکبر ترکان نے بوسنیاکی جنگ کے
دوران سربرنیٹسا میں گیارہ جولائی انیس سو پچانوے کو مارے جانے والے ،ایک
سو چھتیس، افراد کی لاشوں کی شناخت کے بعد ان کی تدفین میں شرکت کے لئے
سارائیوو کا دورہ کیا- اکبر ترکان نے انیس سو پچانوے میں سربرنیسٹا میں آٹھ
ہزار سے زائد مسلمانوں کے قتل عام کی بیسویں برسی کے پروگرام میں بھی شرکت
کی اور مرنے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا- واضح رہے کہ صرب
فوجیوں نے انیس سو پچانوے میں بوسنیاکے ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب مردوں اور
عورتوں کو اجتماعی طور پر قتل کر دیا تھا- ان افراد کو صرب فوجیوں نے قیدی
بناکر رکھا تھا- یہ قتل عام، دوسری عالمی جنگ کے بعد بیسویں صدی میں یورپ
کا ایک بدترین واقعہ شمار ہوتا ہے۔

0 comments:
Post a Comment