شام اور عراق میں جاری
خانہ جنگی نے جہاں بچوں کو براہ راست متاثر کیا ہے وہیں جنگجو گروپوں نے ان سے قلم
وکتاب چھین کر ان کے ناتواں ہاتھوں میں بندوق پکڑانے کا ظالمانہ طرز عمل اختیار کر
کے انہیں جنگ کا ایندھن بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
بچوں کو جنگ میں جھونکنے کا آغاز دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کی
جانب سے کیا گیا جس کی دیکھا دیکھی ایران میں بھی کم عمربچوں کی عسکری تربیت کے
ساتھ ان کی ذہن سازی کی جانے لگی۔ اب یہی کچھ عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیا
"حشد الشعبی" کے ہاں بھی دیکھا گیا ہے۔
عراق کے مختلف شہروں میں قائم ٹریننگ کیمپوں میں بڑی تعداد 10 سے 15
سال کے بچوں کی بھی ہے، جو شیعہ ملیشیا کی زیرنگرانی کلاشنکوف چلانے، دشمن کے ساتھ
فرضی مقابلے کرانے کی تربیت اور ان جنگ کے لئے ان کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ یہی کچھ
اس سے قبل عراق اور شام میں داعشی جنگجو کرچکے ہیں۔ حشد الشعبی کے ایسے کیمپ جہاں
بچوں کو جنگی تربیت دی جاتی ہے ملک کے شمال مشرقی صلاح الدین گورنری میں قائم ہیں۔
الحشد الشعبی نامی شیعہ ملیشیا کی جانب سے بچوں کو جنگی مقاصد کے لیے
عسکری تربیت دینا دراصل داعش اور دوسری انتہا پسند گروپوں کے خلاف جاری لڑائی میں
ان سے معاونت حاصل کرنا ہے، لیکن شیعہ ملیشیا کا یہ طرز عمل وزیراعظم حیدر العبادی
کے اپنے بیانات کے برعکس ہے۔ وزیراعظم العبادی نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے ایک
اجلاس کے دوران بچوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کو انسانیت کے خلاف جرم
قرار دیا تھا لیکن خود ان کی ناک تلے یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے جسے وہ عالم
فورمز پر جنگی جرم قرار دیتے ہیں۔

0 comments:
Post a Comment