انتہا پسند گروپ دولت
اسلامیہ عراق وشام 'داعش' نے ہفتے کے روز ایک نئی وڈیو ریلیز کی ہے جس میں جون
2014ء میں عراق کے شہر تکریت میں سینکڑوں شیعہ فوجی ریکروٹوں کے قتل عام دکھایا
گیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق تکریت کے نرزیک موجود سبایکر فوجی اڈے سے داعش
کے جنگجوئوں نے تقریبا 1700 فوجی کیڈٹس کو حراست میں لے لیا تھا اور اس کے بعد
انہیں مختلف مقامات پر قتل کردیا گیا تھا۔ ان کیڈٹس میں سے اکثر کو شہر کے پرانے
صدارتی محل کی عمارت میں قتل کیا گیا تھا۔
ایک جہادی فورم پر نشر کردہ اس 22 منٹ کی وڈیو میں پہلے سے جاری کردہ
فوٹیج کے ساتھ ساتھ نئے مناظر بھی شامل کئے گئے ہیں جس میں سینکڑوں فوجی کیڈٹس کے
قتل عام کو دیکھا جاسکتا ہے۔
کچھ متاثرین کو دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی بھیک مانگنے کی
کوشش کررہے ہیں اور داعشی جنگجوئوں کو بتا رہے ہیں کہ انہوں نے ابھی حال ہی میں
سیکیورٹی فورسز میں شمولیت اختیار کی ہے۔
اس ہیبت ناک وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بڑَ پیمانے پر فوجیوں کا
قتل کیا جارہا ہے، لوگوں کو ٹرکوں سے نیچے پھینکا جارہا ہے اور بعد انہیں اجتماعی
قبروں میں ڈال کر ایک ایک کو گولیاں ماری جارہی ہیں۔
اس قتل عام کی درد ناک کہانی رات تک چلتی رہتی ہے اور وڈیو میں دیکھا
جاسکتا ہے کہ ان تمام لاشوں کو ہٹانے کے لئے بھاری مشینری کا استعمال کیا جارہا
ہے۔

0 comments:
Post a Comment