یمن میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود حوثی باغیوں نے اتوار کو مسلسل
دوسرے روز لڑائی کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور انھوں نے شہری علاقوں پرگولہ باری کی
ہے جبکہ جلا وطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کے وفادار جنوبی عوامی مزاحمت نے وسطی شہر
تعز میں حوثی ملیشیا کے ساتھ لڑائی کے بعد ایک اہم شاہراہ کا کنٹرول حاصل کر لیا
ہے۔
تعز میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی
ممالک کے لڑاکا طیاروں نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں جن میں
بیسیوں جنگجو مارے گئے ہیں۔ان حملوں کے فوری بعد حوثی ملیشیا نے تعز کے شہری
علاقوں پر گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
یمن کی جلاوطن حکومت کے تحت ملٹری کونسل کے
ترجمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ فوج نے جنوبی عوامی مزاحمت کے ارکان کی حمایت
سے شہر میں شاہرائے ستین (ساٹھ) کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس کے بعد حوثیوں نے شدید
گولہ باری کی ہے۔
اقوام متحدہ نے جمعہ کی شب سے یمن میں عید
الفطر تک ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔یمنی حکومت اور حوثیوں نے اس
اعلان سے قبل اس کی حمایت کا اظہار کیا تھا لیکن ہفتے کے روز سعودی عرب کی قیادت
میں اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کو یمن کی جلاوطن حکومت کی جانب سے فضائی
مہم کو روکنے کے لیے کوئی درخواست نہیں ملی ہے اور نہ حوثیوں نے لڑائی روکنے کا کوئی
وعدہ کیا ہے۔

0 comments:
Post a Comment