ترکی میں حکام نے سب سے
بڑے شہر استنبول سمیت مختلف شہروں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران دولت اسلامیہ
عراق وشام (داعش) کے اکیس مشتبہ ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ کے مطابق جمعہ کو علی الصباح
چھاپہ مار کارروائیوں میں پکڑے گئے مشتبہ افراد میں تین غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ان
پر یورپ سے داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کی معاونت کا الزام ہے۔
ترکی نے حالیہ ہفتوں کے دوران داعش سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں اور اس جنگجو تنظیم کے ساتھ تعاون کے الزام میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ترکی نے حالیہ ہفتوں کے دوران داعش سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں اور اس جنگجو تنظیم کے ساتھ تعاون کے الزام میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
گذشتہ ماہ ترک سکیورٹی فورسز نے غازیان تیپ سے داعش کے ایک رکن کو
پکڑا تھا اور اس سے پہلے سکیورٹی فورسز نے غازیان تیپ کے علاقے اوغوزعلی میں ٹریفک
کنٹرول کے دوران داعش کے چار ارکان کو گرفتار کیا تھا۔
واضح رہے کہ ترکی اور شام کے درمیان نو سو کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ترک
پولیس شام میں قریباً چار سال قبل خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے اس سرحد کو بمشکل کنٹرول
کرسکی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ترکی انتہا پسند جنگجوؤں کے جوابی حملوں کے خوف سے
سرحد پر سختی کرنے میں متردد رہا ہے۔

0 comments:
Post a Comment