روس کی جانب سے شام میں
فضائی حملوں کے آغاز کو محض دو ہفتے گزرے ہیں اور اس دوران نہ صرف فضائی حملوں کی
رفتار میں تیزی آ گئی ہے بلکہ ان کا ہدف بھی بدل گیا ہے۔
روس کی فضائی طاقت کو
شامی فوج کے حملوں اور زمین پر ان کے اتحادیوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا
ہے۔
کینن انسٹیٹیوٹ کے محقق
اور تحقیقی ادارے سی این اے کارپوریشن کے امریکی تجزیہ کار مائیکل کوف مین کہتے
ہیں کہ شام کی فوج اس سال اپنے قبضے سے نکل جانے والے حما اور لتاکیا صوبوں کے
علاقے واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ شمال اور مشرق میں ادلیب اور حلب کی جانب بڑھ
رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’شامی
افواج کی کوشش ہوگی کہ علویوں کے علاقے کو محفوظ بناتے ہوئے لڑائی کو شام کے شہر
جسرالشغور اور ترکی کی سرحدوں تک پیچھے دھکیل دیا جائے اور مرکز میں حُمص کے اطراف
میں اپنا قبضہ مضبوط کر لیا جائے۔‘

0 comments:
Post a Comment