پچھلے ایک سال سے یمن کے ایران نواز حوثی شیعہ گروپ اور سابق منحرف صدر علی عبداللہ
صالح کے وفادار مل کر ملک کی منتخب اور آئینی حکومت کو چلتا کرنے میں کامیاب رہے مگر
خود حوثی لیڈر عبدالمالک حوثی اور منحرف صدر علی صالح میں خاموش اور سرد جنگ جاری ہے۔
عبدالملک الحوثی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ موجودہ بغاوت کی تحریک کے 'ہیرو ' وہ خود ہیں
جب کہ علی عبداللہ صالح اپنے آپ کو ہی کو 'حقیقی قائد' قرار دینے پر مصر ہیں۔ یوں دونوں
کےدرمیان قیادت کے معاملے پر گہرے اختلافات ہیں اور معاملہ اندر ہی اندر سلگ رہے ہیں۔
یمن میں حوثی لیڈر اور علی عبداللہ صالح
کے وفاداروں کے درمیان بھی رسا کشی جاری رہتی ہے۔ اس کی تازہ مثال حال ہی میں اس وقت
دیکھی گئی جب علی صالح کا ایک ایران اور حزب اللہ کی فنڈنگ سے چلنے والے ٹی وی چینل پرانٹرویو نشر ہوا۔ اس انٹرویو میں
بھی علی صالح نے خود کو سب سے بڑا رہ نما قرار دیا۔ وہ یہاں تک کہہ گئے کہ موجودہ انقلابی
تحریک کو وہی 'لیڈ' کررہے ہیں۔ حوثیوں میں لڑائی کی صلاحیت موجود ہے مگروہ قائدانہ
صلاحیتوں سے خالی ہیں۔

0 comments:
Post a Comment