ایک ہفتہ پیشتر شام میں
ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سرکردہ عہدیدار جنرل علی ہمدانی کے قتل کے بعد
ہلاکت کی متضاد تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایران کے ذرائع ابلاغ نے جنرل ہمدانی کی
شام کے شہر حلب میں باغیوں کے ہاتھوں ہلاکت کو غیرمعمولی کوریج دی ہے اور ہلاکت کے
پس منظر اور کیفیت کے بارے میں بھی مختلف واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔
جنرل ھمدانی کے قتل کے
بارے میں ایک روایت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین علی شمخانی
بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر ہمدانی کو شمالی حلب میں ایک انٹیلی جنس
کارروائی کے دوران اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ یک گاڑی میں اپنے تین دیگر ساتھیوں
کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔
جنرل ہمدانی کے قتل سے
متعلق ایک دوسری روایت جو زیادہ مقبول ہو رہی ہے وہ پاسداران انقلاب کی جانب سے
جاری کردہ بیان ہے۔ پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر جرنل حسین
ھمدانی حلب کے نواحلی علاقے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے
ساتھ لڑائی میں 8 اکتوبر کی رات کو ہلاک ہوئے۔ یوں پاسدارن انقلاب کے بیان اور
سپریم سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کے بیانات میں جنرل ھمدانی کی ہلاکت کی الگ الگ
کیفیات بیان کی گئی ہیں۔

0 comments:
Post a Comment