اقوام متحدہ نے یمن میں
ہنگامی حالت کو پہلے درجے سے بڑھا کر چھ ماہ کے لیے تیسرے درجے تک لیجانے کا اعلان
کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت 21 ملین یمنی شہری فوری امداد کے ضرورت مند ہیں۔
دوسری جانب یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے
بیرون ملک سے متاثرین کے لیے بھیجی گئی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے جانے پر
افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حوثی باغی سعودی عرب سے آنے والی امداد جنگ
سے متاثرہ شہریوں تک پہنچانے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
درایں اثناء اقوام متحدہ کے یمن کے لیے
خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے بحران کے حل کے لیے ایک بار پھر تین نکاتی
فارمولہ پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن کے موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے
خلیجی تعاون کونسل کے سیاسی فارمولے پرعمل درآمد کیا جائے، مذاکرات کا عمل بحال
کیا جائے اور سلامتی کونسل کی حالیہ قراردادوں پر فریقین عمل درآمد کو یقینی
بنائیں۔

0 comments:
Post a Comment