صہیونی ریاست کی عدالتیں بھی بدترین نسل پرستانہ پالیسی کے زیرسایہ غیر منصفانہ فیصلے کرتے ہوئے یہودیوں اور فلسطینیوں کو سنگ باری کی سزائوں میں کھلم کھلا تضاد برت رہی ہیں۔
عبرانی اخبار"ہارٹز" نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں بیت المقدس کی ایک مجسٹریٹ عدالت کی فاضل خاتون جج ' درورہ فائینچائن' نے پولیس کی گاڑیوں پر سنگ باری کے الزام میں گرفتار کیے گئے تین یہودی شرپسندوں کو رہا کرتے ہوئے انہیں چند دن کے لیے گھروں میں نظر بند رکھنے کی سزا دی جب کہ اس کے مقابلے میں پتھرائو کے الزام میں گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کو 10 اور 20 سال تک باقاعدہ قید کی سزائیں دی جاتی ہیں۔

0 comments:
Post a Comment