شام میں القاعدہ سے
وابستہ النصرۃ محاذ نے شمالی صوبے حلب میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے مقابلے میں
محاذ جنگ کی پوزیشنوں کو خالی کردیا ہے اور ان پر دوسرے باغی جنگجو گروپوں کو قبضے
کرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔
النصرۃ محاذ نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں ترکی اور امریکا کے
شام اور ترکی کے درمیان واقع سرحدی علاقے سے داعش کو نکال باہر کرنے کے منصوبے پر
تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد بشارالاسد کے خلاف لڑنے کے بجائے ترکی کی
قومی سلامتی کو تحفظ مہیا کرنا ہے۔
النصرۃ محاذ داعش کا مخالف جنگجو گروپ ہے لیکن اب اس نے کہا ہے کہ اس
داعش مخالف مہم میں شرکت کی ممانعت کردی گئی ہے۔امریکا اور ترکی نے گذشتہ ماہ سرحد
کے نزدیک واقع شام کے شمالی علاقے سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے اور شامی
باغیوں کو فضائی کور مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا۔داعش کا اس علاقے پر کنٹرول ہے۔
النصرۃ محاذ کا بیان میں مزید کہنا ہے کہ ترک حکومت اور امریکا کی
قیادت میں اتحاد لڑائی کو اپنے مفادات اور ترجیحات کے مطابق آگے بڑھانا چاہتا ہے
اور ان کی اس مہم میں شریک ہونے والے شامی گروپ اپنی آزادانہ مرضی سے بروئے کار
نہیں ہیں۔

0 comments:
Post a Comment