امریکی محکمہ دفاع
'پینٹاگان' نے سینٹرل کمانڈ کے بعض افسران کی جانب سے شام اور عراق میں دہشت گردی
میں ملوث شدت پسند گروپ دولت اسلامی "داعش" کے خلاف کامیابیوں کے جعلی
دعوئوں کی تحقیقات شروع کی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمان کے بعض افسران کی جانب سے صدر براک اوباما
اوردیگر سیاسی رہ نمائوں کو "داعش" کے خلاف جنگ میں کامیابی کے مزعومہ
دعوئوں کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کرنے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔ پینٹاگون
نے اب اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹرل کمان کے
بعض عہدیداروں کی جانب سے صدر اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو داعش کے خلاف
کارروائیوں میں خلاف واقعہ کامیابیوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی تھی۔
اخبار"نیویارک ٹائمز" کی رپورٹ کے مطابق سینٹرل کمانڈ کے
اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف یہ تحقیقات ایک غیر فوجی تجزیہ نگارکی جانب سے دی گئی
درخواست پر شروع کی گئی ہیں۔ ماضی میں ملٹری انٹیلی جنس میں کام کرنے والے ایک
امریکی نے پینٹاگون کو درخواست دی تھی کہ اس کے پاس سینٹ کام کے افسروں کی داعش کے
خلاف خیالی کامیابیوں کے دعوئوں کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔انہوں نے واشنگٹن میں
بیٹھے فیصلہ سازوں کو "داعش" کے خلاف جنگ میں جھوٹی فتوحات کی یقین
دہانیاں کرائی ہیں جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

0 comments:
Post a Comment