یمن میں باغیوں کے خلاف سرگرم مزاحمت کاروں نے ایب شہر کا محاصرہ کر
کے الحدیدہ کو جانے والی سڑک بند کر دی ہے۔
اس سے قبل مقامی ذرائع نے 'العربیہ' کو
بتایا تھا کہ مزاحمت کاروں نے یمن کے ابین شہر میں باغی ملیشیاؤں کے آخری گڑھ لودر
پر قبضے کی اطلاع دی تھی۔ اس سے قبل ابین گورنری کا صدر مقام زنجبار مزاحمت کاروں
کے زیر نگیں آیا، جس کے بعد عوامی مزاحمت کاروں نے ایب گورنری کے یریم اور الرضمہ
شہروں کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ اس وقت مزاحمت کار بڑی تعداد میں جنوبی یمن کے
شہروں پر اپنا تسلط قائم کر چکے ہیں۔
متعدد یمنی ویب پورٹلز نے مرکزی بینک کے
گورنر محمد بن ھمام کے بارے میں بتایا کہ متحارب فریقین کی لڑائی دارلحکومت کی
جانب بڑھنے کے بعد وہ صنعاء سے حضر موت فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
یمن کی سرکاری فوج اور مزاحمت کاروں کا
انتہائی تیز پیش قدمی کی وجہ سے ملک کے مختلف شہروں میں حوثی اور صالح ملیشیا پسپا
دکھائی دیتی ہیں۔ مزاحمت کاروں نے ابین کے صدر مقام زنجبار کا کنڑول حاص کر لیا
ہے۔ نیز اسی گورنری کا اہم ساحلی شہر شقرہ بھی مزاحمت کاروں کا پایہ تخت بن چکا
ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق مزاحمت کاروں کا رخ اب وسطی پہاڑیوں میں لودر شہر کی جانب
ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق باغیوں نے دارلحکومت
صنعاء میں ہنگامی صورتحال نافذ کر رکھی ہے اور اس کی آڑ میں انہوں نے اخوان
المسلمون نواز جماعت الاصلاح اور الناصری کے متعدد رہنما اور کارکن گرفتار کر لئے
ہیں۔ صنعاء کی شمالی ڈائریکٹوریٹ ارحب میں قبائلیوں اور حوثی ملیشیا کے جنگجووں کے
درمیان لڑائی کی اطلاعات ہیں۔
مزاحمت کاروں کے وسطی یمن کے علاقوں میں
قدم جمانے کے بعد حوثی باغی ایب کے شمالی علاقے ذمار کی جانب راہ فرار اختیار کر
چکے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق فرار ہونے سے پہلے انہوں نے بڑی تعداد میں شہر کے
داخلی راستوں میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔

0 comments:
Post a Comment