جنوبی یمن کے علاقے البیضاء کے شہر رداع میں گذشتہ تین روزسے حوثیوں اور ان کے مخالف قبائل کے درمیان جاری تصادم میں کم سے کم 250 افراد مارے گئے ۔
العربیہ نیوز چینل کے رپورٹر کے مطابق یمنی حکام کے حوالے سے بتایا کہ رداع شہر میں گذشتہ تین روز سے اہل تشیع مسلک حوثی شدت پسندوں اور ان کے مخالف قبائل کے درمیان خون ریز جھڑپیں جاری ہیں ۔ مقامی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ حوثی شدت پسندوں کی جانب سے یمنی فوج اور ان کے متحالف قبائلی لوگوں کے ٹھکانوں پر راکٹوں سے حملوں کے علاوہ بارودی سرنگوں سے بھی حملے کئے گئے ۔اور جس کی وجہ سے حوثیوں کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا گیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ شمالی رداع میں المناسحاور اس سے متصل پہاڑی سلسلے میں تین اطراف سے حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں متحارب قبائل کا بھاری جانی نقصان ہوا، ادھر یمنی صدر عبدربہ نے حوثیوں کے طویل پر تشددمظاھروں کے بعد پہلی مرتبہ خاموشی ٹورتے ہوئے حوثی عسکریت پسند گروپ انصاراللہ کو کڑی تنقید کانشانہ بنایا،نیشنل ڈیفینس کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ہادی نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام سرکاری تنصیبات اور شہروں سے نکل جائیں۔

0 comments:
Post a Comment