سعودی ذرائع نے انکشاف
کیا ہے کہ شام کے قومی سلامتی بیورو کے سربراہ میجر جنرل علی مملوک چند روز قبل
ایک شامی طیارے پر ساحلی شہر جدہ پہنچے تھے اور انھوں نے ایک روسی وفد کی موجودگی
میں سعودی عہدے داروں سے ملاقات کی تھی۔
لبنانی اخبار اللوا میں شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق شامی صدر
بشارالاسد نے میجر جنرل علی مملوک کو روسی عہدے داروں کی موجودگی میں سعودی حکام
سے ملاقات کے لیے بھیجا تھا۔اس کے بعد شامی حکومت نے شام نواز لبنانی روزنامے
الاخبار کو اس دورے کی کچھ تفصیل سے مطلع کیا تھا۔البتہ للوا میں شائع ہونے والے
مضمون میں اس ملاقات کی تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔
سعودی حکام کی شامی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں مبینہ طور
پر دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب ،ترکی ،اردن اور شام پر مشتمل نئے اتحاد کے قیام
کی تجویز پر غور کیا گیا تھا لیکن سعودی ذریعے نے ان دعووں سے انکار کیا ہے اور
وضاحت کی ہے کہ اس ملاقات کا اہتمام الریاض حکومت نے کیا تھا کیونکہ ایک اور سعودی
،روس ملاقات میں ماسکو نے الریاض میں شام میں جاری تنازعے کے سیاسی حل کی راہ میں
روڑے اٹکانے اور حزب اختلاف کی حمایت کے ذریعے دہشت گردی کو ہوا دینے کا الزام
عاید کیا تھا۔
تاہم سعودی عہدے داروں نے تب روس کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی
تھی اور روسی عہدے داروں کو شامی بحران کے ایک نئے حل کی تلاش کے لیے دورے کی دعوت
دی تھی۔سعودی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الریاض نے ماسکو کو شام میں قیام امن کے
لیے نئے اقدام اور بشارالاسد کے اتحادی روسیوں کو ان کا حقیقی چہرہ دکھایا تھا۔

0 comments:
Post a Comment