ماہرین سیاحت نے سعودی
عرب میں قومی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے الگ سے سیاحتی پولیس کا محکمہ قائم کرنے
کی تجویز پیش کی ہے۔ماہرین کی جانب سے یہ تجویز سعودی عرب کے پُرفضا تاریخی شہر
طائف میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران سامنے آئی ہے اور انھوں نے اہم سیاحتی
مقامات اور ہر طرح کے تاریخی قومی ورثے کے تحفظ کے لیے نئی پولیس فورس کے قیام کی
ضرورت واہمیت پر زوردیا ہے۔نایف عرب یونیورسٹی برائے سکیورٹی سائنسز کے پروفیسر
محمد الثقفی نے بتایا ہے کہ ''فورم میں ماہرین نے قومی ثقافتی ورثے کےتحفظ کے لیے
سکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور انھوں نے عرب دنیا میں سیاحتی سکیورٹی کی
تاریخ کا بھی جائزہ لیا ہے''۔
اس فورم کا اہتمام اسی
یونیورسٹی نے سعودی محکمہ برائے قومی ورثہ ،بلدیہ طائف ،عرب تنظیم برائے سیاحت اور
ایوان صنعت وتجارت طائف کے تعاون سے کیا تھا۔محمد الثقفی نے مزید بتایا ہے کہ
ماہرین نے سیاحوں کے حقوق وفرائض سے متعلق ایک مینول مرتب کرنے کی تجویز بھی پیش
کی ہے تاکہ سیاحوں کو تاریخی مقامات کی سیر کے وقت اپنے حقوق اور ذمے داریوں کا
علم ہو سکے۔
شہری دفاع کے ایک محقق علی الشہری کا کہنا
تھا کہ قومی ثقافتی ورثے کا تحفظ حکومت اور مقامی شہریوں کی ذمے داری ہے۔انھوں نے
سعودی عرب کے صوبہ عسیر میں واقع تاریخی گاؤں المعا کے مکینوں کی کیس اسٹڈی سے
متعلق ایک مقالہ پیش کیا۔انھوں نے بتایا کہ اس گاؤں کے مکینوں نے ایک عجائب گھر
بنایا ہوا ہے اور تاریخی جگہوں کے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی قائم کررکھی ہے۔اس کے
علاوہ سرکاری محکموں کی مدد سے ایک سکیورٹی کمپنی بھی قائم کررکھی ہے''۔
مراکش کی وزارت ثقافت کے نمائندے احمد عموس
نے کانفرنس سے اپنی تقریرمیں کہا کہ ''قدرتی قومی ورثہ ایک تاریخی دستاویز
ہے۔پتھروں پر آڑی ترچھی لکیریں اور ڈرائنگ دراصل تاریخ میں رونما ہونے والے واقعات
کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں نے کھدی ہوں گی جنھوں نے واقعات کو رونما ہوتے ہوئے
دیکھا تھا''۔
انھوں نے کہا کہ اس طرح کے آثار اور تاریخی
جگہیں قدرتی آفات ،موسمیاتی تبدیلیوں اور انسان کی تخریب کاریوں کے نتیجے میں تباہ
ہوسکتی ہیں۔ہمیں قدرتی قومی ورثے سے متعلق آگہی پیدا کرنے اور اس کے تحفظ کے لیے
حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

0 comments:
Post a Comment