سیاسی حالات نے جنوبی یمن کو سیاسی فوقیت دلوا دی
یمن میں اس وقت ایک طرف
حوثی باغی اور ان کے ہمراہ سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح کی ملیشیا لڑ رہی ہے
اور دوسری جانب آئینی حکومت کی بحالی کے لیے فوج اور اس کی حامی مزاحمتی ملیشیا کی
پیش قدمی جاری ہے۔ اس وقت یمنی مزاحمتی قوتوں نے ملک کے جنوبی حصے عدن کے بیشتر
علاقوں کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔ نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح سمیت کئی اعلیٰ
عہدیدار عدن واپس آ چکے ہیں۔یمن جغرافیائی اعتبار سے دو بڑے حصوں شمالی اور جنوبی
میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں ملک کے اعلیٰ عہدوں پر بیشتر جنوبی یمن
کی قیادت فائز ہے۔ صدر عبد ربہ منصور ھادی اور وزیراعظم خالد بحاح سمیت کئی اہم
شخصیات کا تعلق جنوبی یمن سے ہے۔ چند ماہ قبل جب یمن میں مفاہمتی مذاکرات کے ذریعے
سیاسی بحران کے حل کی کوشش کی گئی تھی تو اس وقت اعلیٰ عہدیوں پر تعیناتی کے حوالے
سے ایک نیا فارمولہ طے پایا تھا۔ اس فارمولے کے تحت جنوبی یمن سے دو اور شمالی یمن
سے ایک اہم شخصیات کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں میں سے ایک دیا جائے گا۔ عہدیداروں
کی تقسیم علاقائی اور جغرافیائی بنیادوں پر نہیں تھی بلکہ سیاسی حالات نے ایسی
فضاء پیدا کر دی تھی۔ انہی تقرریوں میں انجینیر حیدر العطاس، ڈاکٹر احمد عبید بن
دغر اور عبدالعزیز جباری شامل ہیں جو جنوبی یمن کے باشندے ہونے کے باوجود عوامی
جمہوریہ یمن کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

0 comments:
Post a Comment