ترکی میں کرد علاحدگی
پسند باغیوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا ہے اور ریلوے مزدوروں پر فائرنگ کی
ہے۔ان دونوں حملوں اور فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد
ہلاک ہوگئے ہیں۔
ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کرد باغیوں
کے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آئی ہے اور ان میں اب تک بیس افراد ہلاک ہوگئے
ہیں۔تشدد کے ان نئے واقعات میں مرنے والوں میں زیادہ تر فوجی ہیں۔ترک فوج نے ان
حملوں کے ردعمل میں شمالی عراق اور ملک کے اندر کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے)
سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری شروع کررکھی ہے۔
ترکی کے جنوبی صوبے عدنہ کے گورنر مصطفیٰ بیوک نے بتایا ہے کہ پی کے
کے کے جنگجوؤں نے جمعرات کی شب قصبے پوزنتی میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا
تھا۔اس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور بعد میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے
تبادلے میں دو باغی مارے گئے ہیں۔گورنر نے مزید بتایا ہے کہ باغی خودکار ہتھیاروں
اور دستی بموں سے مسلح تھے۔
مشرقی صوبے کارس میں ایک اور واقعے میں باغیوں نے ریل کی ایک پٹڑی کو
بم دھماکے سے اڑا دیا۔بعد میں جب ریلوے ملازمین اس کی مرمت کے لیے آئے تو ان پر
فائرنگ کردی جس سے ایک ملازم ہلاک ہوگیا ہے۔

0 comments:
Post a Comment