حال ہی میں حوثی باغیوں
کے قبضے سے آزاد کرائے گئے عدن شہر کو دوبارہ باغیوں کی دست برد سے محفوظ رکھنے کے
لئے تین ہزار فوجیوں کو پورے ساز و سامان کے ساتھ میدان میں اتارا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ
جب حوثی باغیوں کے رہنما عبدالمالک حوثی نے اپنے حالیہ خطاب میں بالواسطہ طور
پرعدن میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا۔ بقول عبدالمالک حوثی یہ 'جز وقتی نقصان ہے'
جبکہ ان کے سیاسی مخالف اسے 'کامیابی' تصور کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے
بیانات معزول صدر صالح کے حامی اور حوثی ملیشیا کی طرف سے ہزیمت کا اعتراف ہے۔

0 comments:
Post a Comment