شام
کے چار سالہ تنازعے کو حل کرنے کے لیے نئے سرے سے کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جس
کے بعد قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ بحران کے حل تک پہنچنے کے لیے بشارالاسد کو
صدارت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن
بشار الاسد کا کہنا ہے کہ روس اور ایران نے اپنے دوستوں کا ساتھ نھیں چھوڑا ہے۔
دریں
اثنا فرانس کا کہنا ہے کہ تنازعے کے خاتمے کے لیے شامی رہنما کی ’طاقت کا خاتمہ‘
ضروری ہے۔
فرانسیسی
صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے ’ ہمیں شدت پسندی کو کم کرنے کے لیے اسد کو ہٹانا
ہوگا۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نتھی ہیں۔‘
دوسری
جانب ایران اور روس اس بات پر مصر ہیں کہ مسئلے کے سیاسی حل کے لیے بشارالاسد کو
شامل کرنا ضروری ہے۔

0 comments:
Post a Comment