عبدالملک الحوثی نے
اتوار کی شب ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ''داخلی طور پر ایک سیاسی حل اب بھی
ممکن ہے''۔مگر انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی اور اپنی تقریر کے دوران اپنی ملیشیا
سے کہا ہے کہ وہ یمنی حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھیں۔
انھوں نے صدر عبد ربہ منصور ہادی کے وفادار
فوجیوں اور جنگجوؤں کے جنوبی شہر عدن پر دوبارہ قبضے کو ان کی ایک محدود کامیابی
قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں یہ کامیابی رمضان کی بدولت نصیب ہوئی تھی کیونکہ
بعض حوثی جنگجو رمضان کے آخری عشرے میں اپنے خاندانوں کے ساتھ عید منانے کے لیے
اپنے آبائی علاقوں کی جانب چلے گئے تھے اور انھوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا
ہے۔
عبدالملک الحوثی نے اپنے پیروکاروں کو
دلاسا دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''اپنی مزاحمت جاری رکھیں۔آپ کی پوزیشن مضبوط ہے اور آپ
کامیابی کے قریب ہیں۔ہم حالت جنگ میں ہیں اور ایک عظیم جنگ لڑرہے ہیں اور ہمیں
اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں''۔
انھوں نے اپنے دشمنوں پر عدن پر حملے کے
لیے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اور اسرائیل کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا الزام
عاید کیا ہے۔یمن کی حکومت کے تحت فورسز نے جولائی کے دوران سعودی عرب اور اس کے
اتحادیوں کی فضائی مدد سے عدن اور اس کے نواحی علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے
اور عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی چار ماہ کے بعد دوبارہ بین الاقوامی
پروازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔اتحادی طیاروں نے یمن کے مشرقی صوبے تعز میں حوثی
ملیشیا اور اس کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار جنگجوؤں پر بمباری
کی ہے۔یمنی فورسز نے عدن کے شمال میں واقع یمن کے سب سے بڑے ائیر بیس العند پر
دوبارہ قبضے کے لیے بھی ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔العند ائیربیس پر حوثی ملیشیا
نے مارچ میں قبضہ کیا تھا۔اس سے قبل وہاں امریکی فوجی بھی موجود تھے جو یمن میں
القاعدہ کے خلاف ڈرون جنگ کی نگرانی کررہے تھے۔
سعودی عرب کی قیادت میں
اتحاد نے صدر منصور ہادی کی وفادار فوج اوران کے اتحادی جنوبی مزاحمت سے تعلق
رکھنے والے جنگجوؤں کو ٹینک اور بھاری ہتھیار دیے ہیں۔انھوں نے ان ٹینکوں اور
بکتربند گاڑیوں کے ساتھ اتوار کی شب سے العند کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہ اس پر
قبضے کے لیے ایک بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔

0 comments:
Post a Comment