عراق اور شام میں
برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام کے شمالی صوبے حلب میں
ایک گاؤں پر حملہ کرکے اپنے مخالف سینتالیس مزاحمت کاروں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ
حملے کے بعد بیس باغی جنگجو لاپتا ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی
عبدالرحمان نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ داعش کے ایک بمبار نے ہفتے کی شب حلب کے
شمال میں واقع گاؤں ام حوش میں ایک فوجی چوکی پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس
فوجی چوکی پر داعش کے مخالف شامی مزاحمت کاروں کا قبضہ تھا۔اس حملے میں سینتیس
جنگجو ہلاک ہوگئے۔
اس خودکش بم دھماکے کے بعد داعش کے جنگجوؤں کی مخالف گروپ سے خونریز
لڑائی ہوئی ہے اور اس میں دس مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔داعش نے گاؤں پر قبضہ کر لیا
ہے۔رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ اس گاؤں پر قبضے کا مقصد ایک اور قصبے ماریا کی
ناکا بندی ہے جہاں داعش کے مخالف باغی گروپوں کے اسلحے کے ڈپو اور سامان رسد کے
ذخائر موجود ہیں۔
واضح رہے کہ حلب اور اس کے پڑوس میں واقع شمال مغربی صوبے ادلب میں
داعش کی بیک وقت شامی فوج اور اپنے مخالف باغی جنگجو گروپوں کے ساتھ لڑائی جاری
ہے۔ادلب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ شامی فوج اور امریکا کے
حمایت یافتہ شامی باغیوں کے خلاف محاذ آراء ہے اور انھوں نے حال ہی میں حلب میں
امریکی فوج سے تربیت پا کر آنے والے متعدد شامی باغیوں کو اغوا کر لیا ہے۔

0 comments:
Post a Comment