حوثی جنگی اخراجات کے لیے ملازمین کی تنخواہیں کاٹنے لگے
یمن میں اہل تشیع مسلک کے ایران نواز حوثی باغیوں کو جنگ
جاری رکھنے کے لیے سنگین مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاہے اور اپنی جنگی ضروریات
کی خاطر پبلک سیکٹر اور فوجیوں کی تنخواہوں میں کٹوتی شروع کر دی ہے"العربیہ" نیوز چینل کے ذرائع کے
مطابق یمن میں شعبہ تعلیم، فوج اور سیکیورٹی اداروں سے وابستہ ملازمین کا کہنا ہے
کہ حوثیوں نے اپنی جنگی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کی تنخواہوں سے کٹوتی شروع
کردی ہےسرکاری ملازمین کو بھی اپنی تنخواہوں کا ایک بڑا حصہ جنگ کے لیے دینے
پرمجبور کیا جا رہا اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ جنگ کی لیے رقم فراہم کرنا ان کا قومی
فریضہ ہےذرائع کے مطابق حوثیوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی تن خواہ کا کچھ حصہ
جنگ کے لیے وقف نہ کرنے والوں کو دھمکی دی ہے کہ جو اپنی مرضی سے تنخواہ میں سے
کچھ رقم جنگ کے لیے دینے پر راضی نہیں ہوگا اس کی پوری تنخواہ کاٹ لی جائے گییمن میں ایک دوسرے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حوثی ملیشیا اور منحرف
سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں نے تیل سے حاصل ہونے والی 40 فی صد آمدن کو
جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے عالمی برادری کی جانب سے امداد میں
ملنے والے تیل کو بھی جنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور اسے بھی "جنگی
ضرورت" قراردیاگیا ہے۔

0 comments:
Post a Comment