• تازہ ترین

    تازہ ترین خبریں

    Thursday, May 21, 2015

    جنیوا مذاکرات سے قبل حوثیوں کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے: یمنی حکومت مذاکرات یمن میں سیاسی عمل کی بحالی کا نقطہ آغاز ثابت ہوں گے: بین کی مون

    جنیوا مذاکرات سے قبل حوثیوں کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے: یمنی حکومت
    مذاکرات یمن میں سیاسی عمل کی بحالی کا نقطہ آغاز ثابت ہوں گے: بین کی مون


     یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کی جانب سے جنیوا میں یمن کے مسئلے پر مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے مگرساتھ ہی کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں اسی صورت میں شرکت کرے گی بشرطیکہ حوثی باغی تمام شہروں اور اداروں پر قبضہ ختم کردیں اگر حوثی قبضہ ختم نہیں کرتے تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں عالمی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربہ منصورھادی کی حکومت جنیوا مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گیالعربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی وزیرخارجہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ "اگر یمن میں حوثی پسپا نہیں ہوتے تو جنیوا مذاکرات میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ہم اس صورت میں جنیوا مذاکرات میں شرکت کرسکتے ہیں بشرطیکہ حوثی شہروں کا قبضہ چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں۔ایک سوال کے جواب میں ریاض یاسین کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کو تاحال باضابطہ طور پر جنیوا مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ ہمیں دعوت بھی دی گئی تب بھی ہم صرف اسی شرط پر مذاکرات میں شریک ہوں گے کہ پہلے یمن میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کو اعتماد سازی کے لیے نافذ العمل کیا جائےخیال ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 میں حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی کی پابندی اور ان کے یمنی شہروں پر قبضے کا غیرقانونی قرار دے کر اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ ریاض یاسین کا کہنا تھا کہ ہم سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد چاہیں گے۔ حوثیوں کو عدن اور کم سے کم تعز سے نکلنا ہوگا۔


    • Blogger Comments
    • Facebook Comments

    0 comments:

    Post a Comment

    Item Reviewed: جنیوا مذاکرات سے قبل حوثیوں کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے: یمنی حکومت مذاکرات یمن میں سیاسی عمل کی بحالی کا نقطہ آغاز ثابت ہوں گے: بین کی مون Rating: 5 Reviewed By: Unknown
    Scroll to Top