غزہ میں سینائی جنگجوؤں
کوتربیت دینے کی افواہیں'بہتان' ہیں:حماس
اسلامی تحریک مزاحمت
"حماس" نے مصری اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کو بے بنیاد اور
بہتان قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حماس نے 2 ارب ڈالر کے عوض جزیرہ سیناء کے جنگجوئوں کو غزہ کی پٹی میں
عسکری تربیت فراہم کرنے کا پلان تیار کیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق دوحہ میں
حماس کےایک ذمہ دار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مصری
اخبار"الوطن" میں شائع ہونے والی رپورٹ میں حماس پربہتان باندھا گیا ہے۔
حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے نہ تو دوحہ میں علامہ یوسف القرضاوی سے
ملاقات کی ہے اور نہ ہی کسی ایسی ملاقات میں غیرملکی انٹیلی جنس ایجنٹ موجود تھا
اور نہ ہی حماس جزیرہ نما سیناء کے جنگجوئوں کو غزہ کی پٹی میں عسکری سرگرمیوں کی
اجازت دینے پر غور کررہی ہے۔ یہ تمام الزامات قطعی بے بنیاد اور منفی پروپیگنڈہ
ہیں۔حماس کے ایک ذمہ دار نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا کہ مصری
اخبارات میں شائع ہونے والی افواہیں جھوٹ کا پلندہ مکمل طورپر من گھڑت ہیں۔ جھوٹی
افواہیں پھیلانا اور منفی پروپیگنڈہ مصری ذرائع ابلاغ نے اپنا معمول اور پہچان بنا
رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصری ذرائع ابلاغ میں حماس پر دشنام طرازی فلسطینی
تحریک آزادی کو ناکام بنانے کی گھنائونی سازش ہے۔حماس رہ نما کاکہنا تھا کہ خالد
مشعل اور علامہ یوسف القرضاوی کے درمیان دوحہ میں ہنگامی ملاقات کی خبریں بھی بے
بنیاد ہیں۔ خالد مشعل اور القرضاوی کے درمیان بہترین تعلقات ہیں اور ان کے درمیان
رابطہ بھی رہتا ہے دونوں رہ نمائوں کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی
حماس کی قیادت نے کسی غیرملکی انٹیلی جنس اہلکار سے ملاقات کی ہے۔

0 comments:
Post a Comment