ارض فلسطین میں سنہ 1948ء میں یہودیوں کے لیے اسرائیل کے نام سے ریاست کے قیام کے بعد سے آج تک مقامی عرب شہریوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہوجس نے اسرائیل کے یوم آزادی کے حوالے سے تقریبات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا ہو۔اس باب میں مقبوضہ فلسطین کی ایک عرب خاتون صحافی نے پہلی باراسرائیل کے قیام کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شمع کیا روشن کی کہ اس کے خلاف اسرائیل اور فلسطین دونوں میں ’نفرت‘ کا ایک آتش فشاں پھٹ پڑا ہے۔
link
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے فلسطینی تاریخ کے اس منفرد واقعے پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ قیام اسرائیل کے حوالے سے ایک یادگاری تقریب میں ’جرات‘ اور ’بےباکی‘ سے حصہ لینے والی عرب صحافیہ کو فلسطینیوں اور اسرائیلی دونوں کی جانب سے کس طرح کے منفی طرز عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ کسی طرح دونوں کے غیض وغضب کا شکار ہوئی ہے؟ عین ممکن ہے 34 سالہ لوسی ھریش نے اسرائیل کے قیام میں شمع روشن کر کے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو باہم متحد کرنے کا خواب دیکھا ہو مگر شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ ’آزادی کی شمع‘ روشن نہیں کررہی ہلکہ اپنے خلاف نفرت کے شعلے بھڑکا رہی ہے۔
لوسی ھریش کا تعلق جنوبی اسرائیل کے ’’دیمونا‘‘ شہر سے ہے۔ اس نے حال ہی میں اسرائیل کے 67 یوم آزادی کے حوالے سے مقبوضہ یروشلم میں ایک تقریب میں شمع روشن کرکے قیام اسرائیل کی یاد تازہ کی۔ ایک عشرے سے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا حصہ رہنے والی ھریش اس وقت خود اسرائیلی میڈیا ہی کے ہتھے چڑھی ہوئی ہے۔ اسرائیلی اخبارات میں اس کے خلاف فیچر شائع ہو رہے ہیں اور وہ ٹاک شوز میں بھی موضوع بحث ہے۔ ھریش اس وقت اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا خاص موضوع بنی جب اس نے قیام اسرائیل کی یاد میں ایک 13 رکنی گروپ کے ہمراہ یادگاری شمع روشن کی۔ اس گروپ میں ریزرو فوج میں شامل میزئل شکن نظام’’آئرن ڈوم‘‘ کو آپریٹ کرنے والی ٹیم کے سربراہ بریگیڈیئر ڈانی گولڈ بھی شریک تھے۔
صہیونی میڈیا کا کہنا ہے کہ لوسی ھریش اسرائیلیوں کے لیے اس لیے باعث غیض وغضب ہے کیونکہ اس کا تعلق عرب نسل سے ہے اور عرب کچھ بھی ہوجائیں مگراسرائیل کے نہیں ہوسکتے ہیں۔ نیز آزادی کی شمع وہ شخص روشن کرے جس نے اسرائیل کے لیے کوئی امتیازی خدمات انجام دی ہوں اور اسرائیلی عوام کے دلوں میں اس کے لیے احترام کے جذبات ہوں۔ لوسی ھریش نےایسا کون سا کارنامہ انجام دے دیا کہ اسے آزادی کی یادگار شمع روشن کرائی گئی۔
دوسری جانب فلسطینی حلقوں نے بھی لوسی ھریش کے اقدام کی سخت مخالفت کی ہے۔ فلسطینیوں کی مخالفت سمجھ میں آتی ہے کیونکہ سنہ 1948ء میں ارض فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کو فلسطینی آج تک ’’النکبہ‘‘ یا مصیبت کبریٰ کے طورپر یاد کرتے ہیں۔ اس لیے کسی عرب خاتون صحافیہ کا قیام اسرائیل کی خوشی میں شریک ہونا فلسطینی قوم کے اجتماعی قومی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہےہ۔۔link
0 comments:
Post a Comment