نیپال اور بھارت میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں اور مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
نیپال کے وزیرِ اطلاعات میریندرا ریجال نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ زلزلے کے مرکز کے اردگرد کے علاقوں میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں جاننے کی کوششیں کر رہے ہیں
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ نو ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کا مرکز نیپال کے ضلع کاسکی کے ہیڈکواٹر پوکھرا کے مشرق میں 80 کلومیٹر دور کا علاقہ بتایا جاتا ہے۔
یہ علاقہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے مغرب میں واقع ہے۔ سوشل میڈیا پر نیپال سے منہدم عمارتوں کی تصاویر ڈالی جا رہی ہیں تاہم نقصانات کی مجموعی تصاویر سامنے نہیں آئی ہے۔نیپال کے ایئر پورٹ کو پروازوں کے لیے بند کر دیا گيا ہے۔نیپال ریڈیو نے لوگوں سے گھروں سے باہر رہنے کی اپیل کی ہے کیونکہ مزید جھٹکوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں سنائی دے رہیں جبکہ سرکاری ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کر رہے ہیں۔زلزلے کے جھٹکے پاکستان سمیت بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی محسوس کیے گئے.دہلی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مرزا عبدالباقی کے مطابق شہر میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔انھوں نے بتایا کہ نیپال سے ملحق بھارتی ریاستوں میں دو بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔دہلی کے کناٹ پلیس میں لوگ اونچی عمارتوں کو چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے، تاہم ابھی ابھی کسی جانی و مالی نقصانات کی .اطلاعات نہیں ہیں.بھارتی رکن پارلیمان اور بی جے پی کے رہنما راجیو پڑتاپ روڈھی نے کہا ہے کہ بہار کے سیتا مڑھی ضلعے میں دو افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ بہار میں حفاظتی اقدام کے تحت بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی ضلعے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ بہار کے مغربی چمارن کے بیتیا شہر سے ایک شخص کے دیوار کی زد میں آجانے سے موت کی خبر ہے





0 comments:
Post a Comment