• تازہ ترین

    تازہ ترین خبریں

    Thursday, February 19, 2015

    انتہا پسند دینی جماعتیں نیتن یاہو کی ہمنوا بن گئیں .




    دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی انتہا پسند دینی جماعتوں نے 17 مارچ کو ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں الیکوڈ پارٹی کے سربراہ بنجمن نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
    عبرانی چینل سیون کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے 'الحریدیم، 'شاس' اور 'یھدوت ہتورا' نامی جماعتیں ایک مشترکہ اجلاس منعقد کرنے والی ہیں تاکہ وہ انتخاب میں کامیابی کی صورت میں اسرائیلی صدر کو درخواست کریں کہ وہ بنجمن نیتن یاہو کو حکومت سازی کی دعوت دیں۔
    'شاس' پارٹی نے گذشتہ روز نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کیا کیونکہ انہیں ایسے اشارے ملے تھے کہ یاہو لازمی فوجی سروس میں عدم شرکت کو جرم قرار دینے سے متعلق شق منسوخ کرنے والے ہیں۔ اس جماعت کا موقف تھا کہ لوگوں کو مختلف نظریات رکھنے کی بنا پر سزا دینا قابل قبول نہیں۔
    ادھر نیتن یاہو نے ہم خیال انتہا پسند جماعتوں کے فیصلوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ متذکرہ دونوں جماعتیں 'اسرائیلی سیاسی زندگی کے فطری پارٹنرز ہیں۔'
    گذشتہ روز بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ انہیں اگر مستقبل میں حکومت سازی کو موقع ملا تو وہ اس میں دینی لوگوں کو ضرور شامل کریں گے اور لازمی فوجی سروس سے انکار پر کڑی سزاوں کی شق کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
    دینی رحجان رکھنے والے اخبارات کے چنیدہ نمائندہ سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ 'دین دار لوگ ان کے فطری شریک ہیں۔

    • Blogger Comments
    • Facebook Comments

    0 comments:

    Post a Comment

    Item Reviewed: انتہا پسند دینی جماعتیں نیتن یاہو کی ہمنوا بن گئیں . Rating: 5 Reviewed By: Muhammad Yahya
    Scroll to Top