شام میں صدر بشارالاسد
کےخلاف جاری مسلح بغاوت کو کچلنے کے لیے ایران کی مداخلت اور حزب اللہ اور اسد
نواز گروپوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کے بعد شام کی جنگ کو ایک نئے زاویے سے دیکھا
جا رہا ہے۔
مبصرین کے خیال میں ایران،
شام کے شہروں القنیطرہ، درعا اور مشرقی الغوطہ پر مشتمل تکون میں اسرائیل کے خلاف
جنگ میں سرگرم عمل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاسداران انقلاب اور اس کے دیرینہ
اتحادی حزب اللہ شام کے اس "ٹرائی اینگل" میں صہیونی ریاست کے خلاف ایک
نیا محاذ جلد کھولنے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں؟۔ نیز کیا 18 جنوری 2015ء کو اسرائیل
کے فضائی حملے میں وادی گولان کے سرحدی شہر القنیطرہ میں حزب اللہ اور پاسداران
انقلاب کے اہلکاروں کی ہلاکت کو شام نواز طاقتوں کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا
سکتا ہے؟۔ کیا اسرائیل، شام میں برسرجنگ عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی میں
مزید توسیع کرتے ہوئے صدر بشارالاسد کو مزید "ٹف ٹائم" دینے کی پوزیشن
میں ہے یا نہیں؟۔
ان
سوالات کے جواب اثبات میں دیے جانے کے حق میں دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ سوالات
ایک ایسے وقت میں اٹھائے گئے ہیں جب حزب اللہ نے شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت
میں سرگرم اپنے ایرانی عسکری مشیروں سے صلاح مشورے کے بعد یہ عندیہ دیا کہ وہ
تہران کی مدد سے اسرائیل کے خلاف ایک نیا محاذ جنگ کھول سکتی ہے۔ ایران اس جنگ میں
اس لیے بھی پیش پیش ہو گا کیونکہ اسرائیل نے عین جنگ کے وقت القنیطرہ میں مبینہ
فضائی حملے میں اس کے جنرل محمد علی دادی سمیت نصف درجن جنگجوئوں کو ہلاک کر دیا
تھا۔

0 comments:
Post a Comment