ایران کے سرکاری اعدادو
شمار میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2011ء سے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی
بغاوت کی تحریک کے دوران حکومت کی حمایت کے لیے آنے والے 400 ایرانی پاسداران
انقلاب، افغان اور پاکستانی جنگجو مارے گئے ہیں۔ شام میں پاسداران انقلاب، افغانی
اور پاکستانی شیعہ جنگجوئوں کی ہلاکتوں سے متعلق یہ اعداد شمار سرکاری نیوز
ایجنسی" ارنا" نے جاری کیے ہیں۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے سرکاری اعداد و شمار میں
شام میں ہونے والے جانی نقصان کی درست تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں کیونکہ شام
میں باغیوں کے ہاتھوں مرنے والے ایرانی، پاکستانی اور افغان جنگجوئوں کی تعداد اس
سے کہیں زیادہ ہے۔
"ارنا" کی رپورٹ کے مطابق شام
میں "فاطمیون" بریگیڈ کے پرچم تلے لڑنے والے 79 جنگجو ہلاک ہوئے۔ ان میں
سے بیشتر افغانی تھے جو ایران میں پناہ گزین کی حیثیت سے رہ رہے تھے اور انہیں
ایرانی حکومت نے تنخواہ پر شام کے محاذ جنگ پر بھیج رکھا تھا۔ "فاطمیون"
بریگیڈ کا نام اکثر ایرانی اور غیر ملکی میڈیا میں آتا ہے۔ ایک ماہ قبل اس تنظیم
کو "فیلق" کا درجہ دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے چند ایام کے دوران شام میں جاری لڑائی میں 10
ایرانی، افغان اور پاکستانی جنگجو مارے گئے۔

0 comments:
Post a Comment