اسلامی
جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز تہران میں شعبہ صحت میں نالج بیسڈ
کمپنیوں کے ڈائرکٹروں کی پہلی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کی جانب سے
دباؤ اور یکطرفہ پابندیوں نے ایرانی عوام کے حوصلے دوگنا کر دیئے اور یہی مسئلہ اس
بات کا باعث بنا کہ وہ تمام شعبوں میں اپنی شان و عظمت اور صلاحیتوں کا اظہار کریں
۔
ایرانی صدر نے کہا
کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے تحت، پرامن ایٹمی شعبے میں تحقیق، اسے فروغ دینے اور
نئی ٹیکنالوجیوں کے حصول کی راہ میں تیزی سے آگے بڑھنے کے حالات فراہم ہوئے ہیں ۔ حسن روحانی نے کہا
کہ نالج بیسڈ کمپنیاں، دانشوروں اور یونیورسٹی اسکالروں کی توجہ اپنی جانب مبذول
کرنے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں- انہوں
نے کہا ہمیں پابندیاں ختم ہونے کے بعد، وجود میں آنے والے نئے حالات میں ملک کو
ارتقائی منازل سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لانا ہوں
گی ۔ اسلامی جمہوریہ
ایران کے صدر نے اس امر پرتاکید کرتے ہوئے کہ آج ہمیں پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد
کے حالات کے لئے منصوبہ بندی کرنا چاہیئے کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے
ایٹمی مذاکرات میں ہم، سائنس و ٹیکنالوجی میں مزید پیشرفت اور پر امن ایٹمی
ٹیکنالوجی کے حصول سے دست بردار نہ ہونے کی بات پر قائم رہے اور بالاخر ہم نے اپنی
بات منوا لی۔ ایرانی صدر نے
دشمنوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران
ان تمام کمپنیوں کا خیر مقدم کرتا ہے جو سرمائے اور ٹیکنالوجی کے ہمراہ ایران آنا
چاہتی ہیں ۔لنک

0 comments:
Post a Comment