شامی سرکاری فوج کی جانب سے مخالفین کے خلاف مہلک اور عالمی ساتھ پر
ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا سلسلہ جاری ہے ایک رپورٹ کے مطابق فوج نے دارالحکومت
دمشق کے نواحی علاقے مشرقی الغوطہ کے بعد حمص کے علاقے شمالی الرستن میں بھی
کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہےـ
ایک سال قبل سلامتی کونسل
نے قرارداد 2118 میں شامی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں اور مہلک گیسیں خارج کرنے
والے اسلحہ کے استعمال پابندی عاید کی تھی مگر دمشق سرکاری کی جانب سے سلامتی
کونسل کی قرارداد کی مسلسل پامالی جاری ہے۔ ماہرین کو حمص میں شمالی الرستن میں
بھی شامی فوج کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔
دوسری جانب شام کے حزب
اختلاف کے اتحاد کی جانب سے شمالی الرستن میں اسدی فوج کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں
کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنیوا معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا
ہے۔ اپوزیشن نے شامی فوج کی جانب سے نہتے شہریوں پرکیمیائی ہتھیاروں کےحملوں کی
عالمی سطح پر تحقیقات کامطالبہ کرتے ہوئے اس میں ملوث شامی حکومت کے خلاف سخت
کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

0 comments:
Post a Comment