روسی صدر ولادی میر پوتین نے
کہا ہے کہ شامی بشارالاسد کو روس میں سیاسی پناہ دینے کے بارے میں کچھ کہنا نہیں
کہا جا سکتا۔انھوں نے یہ بات جرمن روزنامے بلد کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ۔ انکا
کہنا تھا کہ روس شام میں آئینی اصلاحات کی وکالت کررہا ہے۔ آئندہ انتخابات جمہوری طریقے
سے ہوئے تو بشارالاسد کہیں نہیں جائیں گے۔پوتین نے بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے
لیے ماسکو کے کردار کے حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ ماسکو
کے لیے ایسا کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسنوڈن کو پناہ دی اور یہ
بشارالاسد کو پناہ دینے سے زیادہ مشکل فیصلہ تھا۔ ایڈورڈ اسنوڈنے امریکہ کے راز
فاش کیے تھےاوران کی حکومت کو اس فیصلے پر امریکا کی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
Wednesday, January 13, 2016
- Blogger Comments
- Facebook Comments
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment