عدن شہرکے رہائشوں نے صدر ہادی سے مطالبہ کیا کہ عدن کو عاضی طور پر یمن کا دارالحکومت بنا دیا جائے
جنوبی یمن کے شہر عدن پہنچنے کے بعد صدر عبد ربہ منصور ھادی
نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مقامی سیاسی رہ نمائوں، قبائلی عمایدین
کے ساتھ صوبہ عدن کی عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں عدن کے علاوہ ابین،
لحج اور الضالع گورنریوں کی مقامی قیادت بھی شریک رہی۔ اجلاس میں یمن کو درپیش
سیاسی بحران سے نکالنے اور ملک کو متحد رکھنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانے
پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس
میں عدن اور جنوبی یمن کے دیگر علاقوں میں امن وامان کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا
گیا۔ صدر ھادی نے سیکیورٹی حکام کو شہروں میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے سخت
انتظامات کی ہدایت کی۔ خیال رہے کہ بیس ستمبر 2014ء کو صنعاء میں حوثیوں کے قبضے
کے بعد صدر ھادی پہلی بار عدن پہنچے ہیں جہاں انہوں نے پہلے سرکاری اجلاس کی صدارت
کی ہے۔
درایں
اثنا یمن کے مختلف شہروں میں حوثیوں کی مسلح بغاوت کے خلاف اور صدر منصور ھادی کی
حمایت میں ریلیاں اور جلسے جلوس منعقد کیے۔ عدن میں نکالی گئی ایک ریلی میں صدر
ھادی سے نہ صرف مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا بلکہ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عدن
ہی کو عارضی طور پر دارالحکومت کا درجہ دے کر ملک کا نظم ونسق چلانا شروع کر دیں۔
0 comments:
Post a Comment