امریکی صدر براک اوباما نے کانگریس کو بدھ کے روز ایک درخواست بھیجی ہے جس میں اس سے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی منظوری کے لیے کہا ہے۔
صدر اوباما نے کانگریس کے نام الگ سے ایک خط بھی لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ''میری انتظامیہ کے مسودے کے تحت ہمارے ملک نے جس طرح عراق اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر زمینی جنگی کارروائیاں کی ہیں،اس طرح کی اجازت طلب نہیں کی گئی ہے بلکہ امریکی مسلح افواج کے بجائے مقامی فورسز کو اس طرح کی کارروائیوں کے لیے تعینات کیا جائے گا''۔
صدر اوباما نے لکھا ہے کہ ''فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت سے زمینی کارروائیوں کے لیے لچک پیدا ہوسکے گی اور امریکی اور اتحادی ممالک کے خصوصی دستے داعش کی قیادت کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لے سکیں گے''۔
انھوں نے کہا کہ ''اس سے امریکی فورسز کو انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے اور ان کے اتحادی ممالک کی فورسز کے ساتھ تبادلے میں مدد ملے گی جس سے داعش کے خلاف فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جاسکے گی''۔
اوباما انتظامیہ نے کانگریس سے تین سال کے لیے داعش کے خلاف فوج کے استعمال کی اجازت طلب کی ہے لیکن صدر اوباما کو ہر چھے ماہ کے بعد کانگریس کو رپورٹ کرنا ہوگا۔تاہم اس درخواست میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے کوئی جغرافیائی حد بندی نہیں کی گئی ہے۔
ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چئیرمین باب کروکر نے کہا ہے کہ وہ داعش کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت دینے کے لیے بہت جلد سماعت شروع کریں گے۔وہ خود اس کے حق میں ہیں۔
ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بوئنر نے داعش کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت کے لیے درخواست کی تعریف کی ہے اور اس کو ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ صدر اوباما کو امریکی عوام کے سامنے اپنا کیس پیش کرنا ہوگا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اس درخواست کے مسودے کو تبدیل کرسکتی ہے۔

0 comments:
Post a Comment