ایک
اسرائیلی عہدیدار نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل اور ترکی اصولی طور پر اپنے تعلقات کو
معمول پر لانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔یہ تعلقات 2010میں غزہ امداد لیکر جانے والے
ترک اور دیگر ملکوں کے رضاکاروں کے فریڈم فلوٹیلانامی بحری جہاز پر
اسرائیلی کمانڈو حملے کے بعد کشیدہ چلے آ رہے تھے۔ اس حملے میں انسانی حقوق حریت
[آئی ایچ ایچ] کے دس ترک رضاکار جاں بحق گئے تھے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر
اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات بحالی کا معاملہ
سویٹزرلینڈ میں زیر بحث آیاعہدیدار نے دعوی کیا کہ انقرہ اور تل ابیب فریڈم
فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے میں جاں بحق ہونے والے ترک رضاکاروں کے
لواحقین کو زر تلافی ادا کرے گا۔
Friday, December 18, 2015
- Blogger Comments
- Facebook Comments
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment