• تازہ ترین

    تازہ ترین خبریں

    Monday, June 22, 2015

    موصل کو صوبہ کردستان میں ضم کرنے کی سازش؟

    عراق کے شورش زدہ موصل شہرمیں جہاں ایک طرف دولت اسلامی"داعش" کے خلاف بڑے آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں وہیں سیاسی حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نیم خود مختارصوبہ کردستان کی فوج "البیشمرکہ" موصل کو کردستان میں ضم کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔
    عراق کےسیاسی حلقوں میں موصل کے مستقبل کے حوالے سے سخت بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ صوبہ کردستان کی فوج البیشمرکہ پچھلے ایک برس سے "داعش" کے خلاف سرگرم عمل ہے اورشمالی عراق کے کئی محاذ سے داعشی جنگجوئوں کو شکست دے چکی ہے۔
    مستقبل قریب میں موصل میں "داعش" کے خلاف عراقی فوج کے ممکنہ آپریشن میں البیشمرکہ کے کردار کی اہمیت بھی تسلیم کی جا رہی ہے۔ سیاست دان یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ عراقی فوج کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے البیشمرکہ موصل پرمکمل کنٹرول حاصل کرسکتی ہے۔ ایسی میں یہ اہم شہرصوبہ کردستان میں جا سکتا ہے۔
    عراقی پارلیمنٹ کی دفاع و قومی سلامتی کمیٹی کے رکن اسکندر وتوت نے کھلے الفاظ میں الزام عاید کیا ہے کہ البیشمرکہ موصل کو داعش سے چھڑانے کے بدلے میں شہر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں اس شہرکو صوبہ کردستان میں شامل کیا جا سکے۔

    • Blogger Comments
    • Facebook Comments

    0 comments:

    Post a Comment

    Item Reviewed: موصل کو صوبہ کردستان میں ضم کرنے کی سازش؟ Rating: 5 Reviewed By: Middleeast
    Scroll to Top