شام میں صدر بشارالاسد
کی خود کو بہادر کہلوانے والی فوج مئی میں دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کے
ہاتھوں تاریخی شہر تدمر میں شکست کے بعد بزدلانہ حرکتوں پر اتر آئی ہے۔ اس کی تازہ
مثال ہفتے کے روز 'تدمر' شہر کے تاریخی مقامات پر شامی جنگی طیاروں کی بمباری ہے
جس میں ایک قدیم دیوار اور "معبد بل "کو تباہ کیا گیا ہے۔
"تدمر رابطہ کمیٹی" کی جانب سے
ایک ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی ہے جس میں ہفتے کے روز شامی فوج کی جانب سے ایک ویران
مقام پر تاریخی مقامات کو نشانہ بنائے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو فوٹیج میں بتایا گیا
ہے کہ شامی فوج کے جنگی طیاروں نے داعشی ٹھکانوں سے کئی کلو میٹر دور شہر کے شمالی
حصے میں تاریخی آثار کو نشانہ بنایا۔ یوں پسپائی کا غصہ تاریخی مقامات کو تباہ
کرنے کی صورت میں لیا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر میں شامی فوج کی
بمباری سے ایک معبد کو تباہ حالت میں دکھایا گیا ہے۔
داعش کے جنگجو "تدمر" میں داخل ہونے کے بعد تاریخی شہر کی
اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ جس طرح وہ عراق کے تاریخی شہروں کے آثار قدیمہ کو نیست
ونابود کرتے آئے ہیں۔ اسی طرح شام میں بھی کریں گے مگر انہوں نے اس بار
"تدمر" کے آثار قدیمہ کے ساتھ ابھی تک کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہے۔
عین ممکن ہے وہ مقامی آبادی کے دل جیتنے کے لیے ایسا کررہے ہیں۔

0 comments:
Post a Comment